موجودہ حکومت کا حج انتظامات میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

موجودہ حکومت کا حج انتظامات میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف

اسلام آباد (13 اگست 2025) — موجودہ حکومت کے دور میں ایک اور بڑا اسکینڈلسامنے آ گیا، حج انتظامات 2023-24 میں 42 ارب روپے سے زائد کی مبینہ بےضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی 300 ارب روپے کے چینی اسکینڈل اور 2ہزار ارب روپے کے پٹرولیم ڈویژن اسکینڈل منظر عام پر آ چکے ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت مذہبی امور نے حجاج کرام کے لیے خستہ حال عمارتیں 24ارب روپے میں کرائے پر لیں، جن میں مکہ مکرمہ میں صرف ایک عمارت کا کرایہ 2ارب 67 کروڑ روپے ادا کیا گیا۔ پاکستان ہاؤس نہ خریدنے سے قومی خزانے کو 4 ارب70 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، جبکہ قبضہ نہ لینے کے باوجود عمارتوں پر 54 کروڑروپے کی ادائیگی کی گئی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زائد رہائشیں لینے اور واجبات کی ریکوری نہہونے سے ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان ہوا۔ حجاج کو 8 ارب روپے کے فنڈز واپس نہکرنا، معاونین اور میڈیکل مشن پر 64 کروڑ روپے اضافی خرچ، 1518 اضافی معاونینکی خدمات لینا، اور مقامی معاونین کو بغیر ثبوت 36 کروڑ روپے ادا کرنا بھی بےضابطگیوں میں شامل ہے۔

وزارت نے پبلک پروکیورمنٹ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرایہ، ٹرانسپورٹ اورکیٹرنگ پر 24 ارب روپے خرچ کیے۔ وزارت حج کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا۔