بیوی کو گھر سے نکالنے کو قابلِ سزا جرم بنانے کا بل پیش

بیوی کو گھر سے نکالنے کو قابلِ سزا جرم بنانے کا بل پیش

اسلام آباد — منگل کے روز قومی اسمبلی میں ایک بل پیش کیا گیا جس کا مقصدخواتین کو گھروں سے ناجائز طور پر بے دخل کرنے کو قابلِ سزا جرم قرار دینا ہے۔

یہ مجوزہ ترمیمات پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات میں کی جائیں گی اورپاکستان پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شرمیلا فاروقی نے ایوان کے اجلاس میں یہ بلپیش کیا۔

ڈرافٹ کے مطابق، اگر شوہر یا کوئی بھی خاندانی فرد کسی خاتون کو زبردستی اورناجائز طور پر گھر سے نکال دے تو یہ ایک فوجداری جرم تصور ہوگا، جس کی سزا تینسے چھ ماہ قید ہو سکتی ہے۔

ترمیم میں مجرم پر دو لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔مزید یہ کہ خواتین کی غیر قانونی بے دخلی سے متعلق کیسز فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کیعدالت میں سنے جائیں گے۔

اس بل کا نام “کریمنل لاء (ترمیمی) بل 2025” رکھا گیا ہے، جسے ڈپٹی اسپیکر نےمزید غور کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔