اسلام آباد:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کے طور پر پاکستان کے کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔
یہ حمایت سینیٹر لنڈسی گراہم کی تنقید کے درمیان سامنے آئی ہے۔
گراہم نے پاکستان کی امریکہ اور ایران کے تعلقات میں غیر جانبداری پر خدشات کا اظہار کیا۔
ٹرمپ کی یہ تصدیق اس وقت سامنے آئی جب گراہم نے پاکستان کی سفارتی نیتوں پر سوال اٹھایا۔
روئٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے کہا، “مجھے لگتا ہے کہ پاکستانی بہترین ہیں۔”
انہوں نے حالیہ جنگ بندی معاہدے میں پاکستان کے کردار پر زور دیا۔
یہ معاہدہ 8 اپریل 2026 کو امریکہ اور ایران کے درمیان طے پایا۔
ٹرمپ نے 12 مئی 2026 کو گراہم کے جواب میں اپنی حمایت دوبارہ ظاہر کی۔
گراہم کے خدشات میں پاکستانی اڈوں پر ایرانی طیاروں کی غیر تصدیق شدہ رپورٹس شامل تھیں۔
پاکستان کی وزارت خارجہ نے ان الزامات کی تردید کی۔
حکام نے وضاحت کی کہ یہ طیارے سفارتی مشنز کے تھے۔
الجزیرہ نے رپورٹ کیا کہ یہ سرگرمیاں سفارتی لاجسٹکس کا حصہ تھیں۔
گراہم کی تنقید اس خطے میں جغرافیائی حساسیت کو اجاگر کرتی ہے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر اعتماد امریکی سیاست میں ایک متنازعہ مسئلہ ہے۔
پاکستانی حکام اس تنازعے میں غیر جانبدار رہنے کے عزم پر قائم ہیں۔
سفارتی ذرائع پاکستان کی دونوں ممالک کے قریب اسٹریٹجک حیثیت کی قدر کرتے ہیں۔
یہ کشیدگی امریکہ اور مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں وسیع تر چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
تنقید کے باوجود، پاکستان اپنی بین الاقوامی شہرت کو بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
لنڈسی گراہم کا شکوک و شبہات امریکی پالیسی کے نقطہ نظر میں ایک تقسیم کو ظاہر کرتے ہیں۔
تنازعے کے بڑھنے کا خدشہ علاقائی رہنماؤں کو پریشان کرتا ہے۔
روئٹرز نے سفارتی پلوں کو برقرار رکھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔
ٹرمپ کی حمایت کو مسلسل امن مذاکرات کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کی سفارت کاری کا مستقبل پاکستان کی شمولیت پر منحصر ہو سکتا ہے۔
علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے محتاط سفارتی چال چلنے کی ضرورت ہے۔
یہ ترقی اسلام آباد کی سفارتی مؤثریت پر اہم توجہ مرکوز کرتی ہے۔
حل نہ ہونے والی کشیدگیاں مستقبل کی ثالثی کی کوششوں کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہیں۔
یہ پیشرفت مشرق وسطیٰ میں ایک پیچیدہ جغرافیائی منظر نامے کی نشاندہی کرتی ہے۔
امریکی داخلی تقسیم طویل مدتی خارجہ پالیسی کی حکمت عملیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دنیا ان سفارتی کوششوں کے unfolding پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان اس کردار کو کس طرح نبھاتا ہے، اس کے بین الاقوامی اثرات ہو سکتے ہیں۔
