وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیوروکریسی میں موجود بدعنوانیوں اور عیاشیوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’خبر‘ میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ بیوروکریٹس کو ہر سال اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی بنائے جائیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹس کی دہری شہریت ختم کی جائے اور سرکاری پلاٹس کے حصول کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو سکے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بیوروکریسی کا ایک بڑا حصہ بدعنوان ہے اور ان میں سے تقریباً 25 سے 30 فیصد افسران کرپٹ عناصر پر مشتمل ہیں۔ حکومت بیوروکریٹس پر سالانہ تقریباً 3.5 کھرب روپے خرچ کرتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس ادارے پر سخت قوانین لاگو کیے جائیں تاکہ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔
خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ وہ حکومت سے درخواست کریں گے کہ بیوروکریسی کے حوالے سے قانون سازی کی جائے تاکہ ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کرپشن کا بھی خاتمہ کیا جا سکے۔ ان کا یہ موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک میں سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور اثاثوں کی چھپانے کے معاملات زیر بحث ہیں۔
بیوروکریسی میں اصلاحات کی اس مہم کو ملکی سطح پر شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ موثر اور کرپشن سے پاک انتظامیہ ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
