لندن میں میچ کے دوران پاکستانی بیٹر حیدر علی گرفتار

لندن میں میچ کے دوران پاکستانی بیٹر حیدر علی گرفتار

پاکستانی کرکٹر حیدر علی کو لندن میں ایک لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انہیں معطل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کرکٹ کی دنیا میں ایک حیران کن خبر کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے فٹ بال شائقین اور کھیل سے محبت کرنے والوں میں کافی تشویش پیدا کر دی ہے۔ پی سی بی نے فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ وہ قانون کے مطابق مکمل کارروائی کریں گے۔

حیدر علی کو گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، لیکن انہیں ہدایت دی گئی ہے کہ وہ دو ہفتے بعد دوبارہ عدالت میں پیش ہوں تاکہ ان کے خلاف مقدمے کی سماعت ہو سکے۔ اس دوران حیدر علی کے وکیل بیرسٹر شاہین نے ان کی قانونی نمائندگی سنبھالی ہے اور اس معاملے کو بخوبی سنبھالنے کے لیے تمام قانونی تیاریاں کر رہے ہیں۔ بیرسٹر شاہین کی کوشش ہے کہ حیدر علی کو انصاف کے عمل میں مکمل موقع ملے۔

لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بھی اس معاملے پر مکمل توجہ دی ہے اور حیدر علی کو قانونی و اخلاقی حمایت فراہم کی ہے۔ ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ وہ ہر ممکن مدد فراہم کریں گے تاکہ حیدر علی کا حق محفوظ رہے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ یہ معاملہ دونوں ممالک کے تعلقات اور پاکستانی کرکٹرز کی ساکھ کے لیے حساس ہے، اس لیے ہائی کمیشن نے اس میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اس واقعے نے نہ صرف حیدر علی کی ذاتی زندگی بلکہ پاکستان کرکٹ کی تصویر کو بھی متاثر کیا ہے۔ کھیل کے میدان میں حیدر علی کے شاندار کارکردگی کے مداح انہیں سپورٹ کر رہے ہیں، مگر وہ چاہتے ہیں کہ انصاف کا عمل شفاف اور جلد مکمل ہو۔ اس کیس کے فیصلے کا اثر نہ صرف حیدر علی کی کریئر پر ہوگا بلکہ پاکستان کرکٹ کی مجموعی ساکھ پر بھی پڑے گا، اس لیے تمام متعلقہ حکام اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

آئندہ دو ہفتوں میں جب حیدر علی کی عدالت میں سماعت ہوگی، تب یہ واضح ہو جائے گا کہ وہ کس حد تک اپنے دفاع میں کامیاب ہوتے ہیں۔ تب تک پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستانی سفارتی مشن ان کی قانونی مدد جاری رکھیں گے تاکہ انصاف کا عمل مکمل ہو اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی دور ہو سکے۔ پاکستانی عوام بھی اس کیس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور انصاف کی امید رکھتے ہیں۔