یورپ میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں صرف 20 سال کی عمر کے آسٹریلوی نوجوان نے ایک نیا ملک قائم کرنے کا اعلان کیا۔ اس ملک کا نام “فری ریپبلک آف ورڈیس” رکھا گیا ہے، جس کی آبادی صرف 400 افراد پر مشتمل ہے۔ یہ چھوٹا سا ملک، جو ویٹیکن سٹی کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے چھوٹا ملک مانا جا رہا ہے، اپنا جھنڈا، کرنسی، پاسپورٹ اور کابینہ رکھتا ہے۔
آسٹریلوی نوجوان ڈینیئل جیکسن نے 2019 میں سربیا اور کروشیا کے درمیان واقع ایک 125 ایکڑ کے متنازع علاقے کو منتخب کیا جو قانونی طور پر کسی ملک کی ملکیت نہیں تھا۔ وہاں “پاکٹ تھری” کہلانے والے افراد کے ساتھ مل کر اس نے ایک نئے ملک کا اعلان کیا اور خود کو اس کا صدر بھی قرار دے دیا۔
ورڈیس میں انگریزی، کروشین اور سربین زبانیں بولی جاتی ہیں۔ البتہ یہاں پہنچنے کے لیے صرف کشتی کا استعمال ممکن ہے کیونکہ یہ علاقہ کروشیا کے شہر اوسیجیک کے قریب دریا کے کنارے واقع ہے۔ اکتوبر 2023 میں کروشین حکام نے جیکسن اور دیگر آبادکاروں کو گرفتار کر کے ملک بدر کر دیا، ان پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کا الزام لگایا گیا اور ان کے ملک میں داخلے پر تاحیات پابندی لگا دی گئی۔
ڈینیئل جیکسن کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی واضح وجہ بتائے بغیر نکالا گیا، لیکن وہ اب بھی واپسی کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وہ دوبارہ ورڈیس واپس جانے میں کامیاب ہو گئے، تو وہ صدارت سے استعفیٰ دے کر انتخابات کا اعلان کریں گے۔
