اسلام آباد: ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ ترکی کا بھارت کے ساتھ کوئی دوطرفہ مسئلہ نہیں ہے اور نئی دہلی سے درخواست کی ہے کہ وہ انقرہ کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات پر ناراض نہ ہو۔
سنگاپور میں چھٹی آئی آئی ایس ایس ریفلز لیکچر کے دوران فیدان نے بھارت-ترکی تعلقات میں موجود حساسیتوں کا ذکر کیا جو ترکی کی پاکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری سے جڑی ہوئی ہیں۔ “اگر بھارت کسی ملک کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات پر ناراض ہونے والا ہے تو میں نہیں جانتا… ہمارے پاس بھارت کے ساتھ کوئی دوطرفہ مسئلہ نہیں ہے،” انہوں نے کہا۔
یہ بیان ترکی اور پاکستان کے درمیان جاری مضبوط دفاعی اور سفارتی تعاون کے درمیان آیا ہے۔ انقرہ نے اسلام آباد کو بائرکٹر TB2 ڈرون اور دیگر فوجی ساز و سامان فراہم کیے ہیں، جو مئی 2025 میں بھارت-پاکستان فوجی کشیدگی کے دوران نمایاں رہے۔
فیدان نے زور دیا کہ ترکی اور بھارت کے درمیان کوئی سرحدیں یا تاریخی تنازعات نہیں ہیں، جو تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں بہتر دوطرفہ تعاون کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ترکی کی آزاد خارجہ پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ باہمی مفادات کی بنیاد پر تعلقات قائم رکھتا ہے بغیر کسی بیرونی دباؤ کے۔
پاکستانی حکام نے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے کیونکہ یہ دیرینہ برادرانہ تعلقات کی تصدیق کرتا ہے۔ ترکی پاکستان کے اہم دفاعی شراکت داروں میں سے ایک ہے، جس کے ساتھ دوطرفہ تجارت اور اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک تعاون حالیہ سالوں میں بڑھ رہا ہے۔ دونوں ممالک باقاعدگی سے علاقائی مسائل پر ہم آہنگی کرتے ہیں، بشمول پاکستان-ترکی ہائی لیول اسٹریٹجک تعاون کونسل کے ذریعے۔
**سرکاری پس منظر** ترکی-پاکستان دفاعی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہوا بازی، بکتر بند گاڑیوں اور گولہ بارود میں مشترکہ منصوبے ہیں۔ 2025 میں بھارت کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے دوران، ترکی نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور سفارتی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی جبکہ اپنے دفاعی سپلائی کو برقرار رکھا۔
فیدان کے تبصرے انقرہ کی وسیع تر سفارتی حکمت عملی کی عکاسی کرتے ہیں جو متعدد تعلقات میں توازن برقرار رکھتی ہے۔ ترکی بھارت کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی رکھتا ہے، بشمول ٹیکسٹائل، مشینری اور دواسازی میں، حالانکہ حجم پاکستان کے ساتھ اس کے دفاعی اور سیاسی تعامل کے مقابلے میں کم ہیں۔
**بھارتی ردعمل** بھارتی تبصرہ نگاروں نے ترکی کی پوزیشن پر تنقید کی ہے۔ سابق خارجہ سیکرٹری کنول سیبل اور دیگر نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون کی تنظیم (OIC) میں کشمیر پر پاکستان کی مستقل حمایت کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے انقرہ کے طریقہ کار کو بھارت-ترکی تعلقات میں کسی بھی معنی خیز تبدیلی کے لیے غیر مددگار قرار دیا۔
بھارت اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارت حالیہ سالوں میں تقریباً 8-10 ارب ڈالر ہے، خاص شعبوں میں ترقی کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، سیاسی اختلافات، خاص طور پر علاقائی سلامتی کے مسائل پر، گہرے تعامل کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
**پس منظر** ترکی-پاکستان تعلقات کی بنیاد کئی دہائیوں پر محیط ہے، جو مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور ثقافتی تعلقات پر مبنی ہیں۔ تعاون میں دفاعی پیداوار، دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس، اور اقتصادی منصوبے شامل ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ ترکی کی علاقائی حمایت کی ہے۔
